عورتوں کی خودمختاری اور وسائل کے حوالے سے شرکت گاہ اپنی ریسرچ کے ذریعے کافی عبور رکھتی ہے۔ 2008 میں ادارے کے اندر ایک علیحدہ ریسرچ یونٹ کا قیام عمل میں لایا گیا جس کی سربراہی مس فریدہ شہید کرتی تھیں، یہ یونٹ مختلف Theories کا فیلڈ پر مبنی ریسرچ کی کسوٹی پر تجزیہ کرتا تھا۔

پروگراموں سے متعلق ریسرچ کی ذمہ داری متعلقہ پروگرام کی ٹیم کی ہوتی ہے۔ ہر دو طرح کی ریسرچ شرکت گاہ کو مسائل کے حوالے سے اپنی ایڈووکیسی کو شروع کرنے میں شہادت اور جواز فراہم کرتی ہیں۔

شرکت گاہ کی ریسرچ اور سٹڈی کا احاطہ

1. Strengthening Governance in Health Systems for Reproductive Health and Rights – An Intervention of Case Study
انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ریسرچ سینٹر (IDRC) کے تحت ایک چار سالہ کیس سٹڈی کو شروع کیا گیا، جس کا مقصد تولیدی صحت اور حقوق کے حوالے سے صحت کے نظام اور گورننس کو مضبوط بنانا اور سہ طرفہ مداخلتی ماڈل کو تیار کرنا تھا

حقوق کے مطالبے اور ریاستی نمائندگان کو جوابدہ ٹھہرانے کے رویے کو فروغ دینا
ڈلیوری کے نظام میں بہتری لانے کیلئے صحت اور پاپولیشن کے اداروں کے پلاننگ اور عملدرآمد کے سیکشن کی قابلیت میں اضافہ کرنا
حکومتی عہدہ داران اور شہریوں کے درمیان بہتر رابطے کیلئے پلیٹ فارم بنانا
یہ پراجیکٹ شہدادکوٹ، سکھر، جعفرآباد ، مظفرگڑھ ، وہاڑی اور مردان میں شروع ہو گا۔

2. Strengthening the Networking Knowledge Management and Advocacy Capacities on the Asia-Pacific Network for the SRHR
اس سٹڈی کیلئے ایشین پیسفک ریسورس اینڈ ریسرچ فار ویمن (ARROW-EU) نے مالی امداد فراہم کی۔

3. Research Report: ‘Where There is Land, There is Hope
یہ ریسرچ صنفی، سماجی اور طاقت کے استعمال جو عورتوں کے وراثتی، زمین اور وسائل پر دسترس اور حقوق کے معاملات کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ سندھ گورنمنٹ کی طرف سے بے زمین حاری عورتوں میں زمین کی تقسیم کے حوالے سے بہتری کی تجاویز بھی فراہم کرتی ہے۔ 2012 میں شرکت گاہ نے یہ ریسرچ ڈسٹرکٹ ٹھٹہ، نواب شاہ اور سکھر میں اس سکیم کے اثرات کا جائزہ لینے کیلئے شروع کی۔
:حکومت کو کچھ مندرجہ ذیل تجاویز دی گئیں

حقوق کے مطالبے اور ریاستی نمائندگان کو جوابدہ ٹھہرانے کے رویے کو فروغ دینا
بے زمین کسان عورتوں تک رسائی کیلئے معلومات کی بہتر طریقے سے اشاعت اور ترویج
کھلی کچہریوں میں خواتین افسروں کی بھرتی تاکہ عورتوں کو زیادہ بہتر طریقے سے سکیم کے اندر متحرک کیا جا سکے
ریونیو آفیسر کو چاہیے کہ وہ عورتوں کو زمین کی منتقلی کے حوالے سے مکمل معلومات فراہم کرے اور اگر ان کو کوئی مسائل درپیش آتے ہیں تو ان کی حوصلہ افزائی کرے کہ وہ آکر اس کی رپورٹ کریں۔
عورتوں کا ریونیو، ایگریکلچر اور دیگر متعلقہ گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ رابطہ سازی اور ٹریننگ کی ضرورت کے حوالے سے ایک اسسمنٹ کی جانے چاہیے۔

4. Climate change and women, a case study in selected villages of District Shaheed Benazirabad (2011)
یہ سٹڈی ضلع شہید بینظیرآباد کی یونین کونسل سکرنڈ کے چار گاؤں میں کی گئی۔ بنیادی طور پر اس طرح کی شہادتیں اکٹھی کی گئیں کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے عورتوں کی زندگیوں پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں اور انہوں نے اپنے روزگار کے حوالے سے کس طرح کی نئی حکمت عملیوں کو اپنایا ہے۔ اس ریسرچ کو ایک چھوٹے پیمانے پر qualitative سٹڈی کے طور پر دیکھا گیا اس مقصد کے ساتھ کہ مقامی عورتوں اور مردوں میں ماحولیات کی تبدیلیوں کے حوالے عام طور پر کیا سوچ اور خیالات پائے جاتے ہیں اور کس طرح سے یہ ان روزگار پر اثرانداز ہو رہے ہیں اور وہ اس کو کس طریقے سے ان کا سدباب کر رہے ہیں۔ دوسرے نمبر پر اس ریسرچ سے یہ اُمید پیدا ہوتی ہے کہ ایک اور اس سے ملتی جلتی کیس سٹڈی کے فریم ورک کو تشکیل دیا جائے جو مختلف ماحولیاتی زونز میں ماحولیاتی تبدیلی، روزگار کے ذرائع اور عورتوں کا اس ضمن میں بننے والی پالیسیوں میں کردار کی اہمیت اور تعلق کو واضح طور پر سامنے لا سکے۔

5. Scoping Study: Women’s Access and Rights to Land and Property in Pakistan
Khawar Mumtaz and Meher M. Noshirwani
یہ پیپر دیہی غربت اور ماحولیات کے پروگرام کے حوالے سے کی جانے والی ایک بڑی ریسرچ کا ایک حصہ ہے جس میں صنفی، سماجی اور طاقت کے استعمال جو عورتوں کے وراثتی، زمینی اور وسائل پر دسترس اور حقوق کے معاملات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان میں ویمنز ایکٹوسٹ اور ریسرچرز نے ابھی تک عورتوں کے زمین کے حق کے حوالے سے مسئلے کو اس طریقے سے نہیں اُٹھایا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عورتوں کا مقام، عورتوں کے خلاف تشدد، سیاست میں ان کی حصہ داری اور غربت جیسی مختلف سٹڈیز اور ریسرچز اس اَمر کو آشکار کرتی ہیں کہ عورتوں کے مسائل کی اصل وجہ ان کا وسائل اور اثاثوں تک رسائی نہ ہوناہے۔

6. Gender and Poverty in Pakistan: Pakistan Poverty Assessment Update. Background Paper Series # 7 by Khawar

Mumtaz
یہ پیپر ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے غربت کی تعریف، آمدنی اور غیرآمدنی، صنف اور غربت، فوڈ سیکورٹی جیسے مسائل کے حوالے سے background ریسرچ کے طور پر کمیشن کیا۔ اس پیپر میں غریب عورتوں کی سماجی بے دخلی کے مسئلے کو دوبارہ سے اُٹھاتے ہوئے سماج کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی لانے کی فوری اہمیت پر بات کی ہے۔ کیونکہ یہی وہ ڈھانچہ ہے جو عورتوں کی گھر، گھر سے باہر اورکام کی جگہ پر عورتوں کی بااختیاری میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتا ہے۔

7. The Social Movement perspective by Khawar Mumtaz
یہ پیپر WIDE کی غربت پر رپورٹ کا ایک حصہ ہے جو غیر مساوی اور غیر محفوظ معاملات پر بات کرتا ہے۔ یہ پیپر اس بات کو سراہتے ہوئے بتاتا ہے کہ کس طرح عورتوں کی تحریکوں نے عورتوں کو فائدہ پہنچایا ہے مگر ابھی اس ضمن میں بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ یہ سماجی انصاف کے حوالے سے بین الاقوامی اور گلوبل تحریکوں کے درمیان رابطہ سازی اور الائنسز کی ضرورت پر زور دیتا ہے اور مختلف طرح کی حکمت عملیوں پر کام کرنے کی اہمیت پر بات کرتا ہے تاکہ اس طرح کے اقدامات اُٹھائے جا سکیں جو عورتوں کو غربت اور عدم تحفظ سے باہر نکال سکیں۔

8. Constructing Identities – Culture, women’s agency, and the Muslim world by Farida Shaheed
یہ پیپر مسلمان دنیا اور بین الاقوامی نیٹ ورک (Women Living Under Muslim Laws) کے پس منظر میں عورتوں کی بااختیاری اور جدوجہد کو معلومات، یک جہتی اور مدد کے حوالے سے دیکھتا ہے اور پاور اور شناخت کے متحرک دو طرفہ پہلوؤں پر بات کرتا ہے۔ یہ پیپر فریدہ شہید کی پرانی تحریر بین الاقوامی نیٹ ورک سے اخذ کیا گیا ہے۔
‘Controlled or autonomous: identity and the experience of the network, Women Living Under Muslim Laws’, Signs: Journal of Women in Culture and Society, Volume 19, Number 4, 1994, pp 997-1019

9. Women’s Religion and Social Change in Pakistan: A Proposed Framework for Research by Farida Shaheed
پاکستان، انڈیا اور سری لنکا میں عورتوں پر ایک ریسرچ پراجیکٹ ’’مذہب اور سماجی تبدیلی‘‘ نے ان ملکوں کے مختلف النوع کلچر اور روایات کو تبدیلی کے پس منظر میں بدلتے ہوئے مذہبی رحجانات جوکہ عورتوں سے متعلق ہیں اور ان میں عورتوں کے کردار کو سمجھنے کا ایک نایاب موقع فراہم کیا۔ مذہب کے لوگوں کے انفرادی معاملات میں بے جا مداخلت خاص طور پر عورتوں کے حوالے سے تعصبات اور غیریقینی کو شاذونادر ہی ریسرچ مرکز بنایا جاتا ہے۔

10. Asian Women in Muslim Societies: Perspectives and Struggles: Asia-Pacific NGO Forum on B+10 by Farida Shaheed
یہ پیپر دنیا بھر میں مذہب کے استعمال کے ٹرینڈ کو ڈسکس کرتا ہے جس نے شناخت کی بنیاد پر سیاست کو نظریاتی سیاسی ایجنڈے میں تبدیل کیا۔ یہ پیپر Women Living Under Muslim Laws نیٹ ورک کے حوالے سے ان کے کردار کا بھی جائزہ لیتا ہے جو کہ سماج میں عورتوں کی تنہائی کو توڑنے کی کوشش کرتے ہوئے اس myth کو معلومات کی ترسیل کے ذریعے جھنجوڑنے کی بھی کوشش کرتی ہیں کہ مختلف مسلم دنیا کوئی ایک چیز نہیں ہیں بلکہ مختلف اکثریتی ممالک میں مختلف طرح کے قوانین رائج ہیں۔

11. Pakistan Ten Years into the Beijing Platform for Action: A Civil Society Perspective on Some Critical Areas of Concern by Farida Shaheed & Yasmin Zaidi
اس رپورٹ میں صنفی امتیاز کے مسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے عمل اور چیلنجز پر بیجنگ پلیٹ فارم کے تحت عملدرآمد کرنے کے حوالے سے NGOs کے نقطۂ نظر کو پیش کیا گیا ہے۔ اس میں سول سوسائٹی کی طرف سے دیے جانے والے مطالبات کو پیش کیا گیا ہے تاکہ حتمی نتائج اور مطالبات کو قومی consultation کے پروسیس میں ایک واضح شکل دی جا سکے