عورتوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ
زمین کے حق کا مطالبہ
ماحولیاتی تبدیلی اور روزگار
جنسی اور تولیدی صحت کا حق
نیٹ ورک اور الائسنسز
ڈسٹرکٹ ایڈووکیسی گروپ

عورتوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ
Ending Violence Against Women (VAW) اور Gender Based Violance (GBV) شرکت گاہ کے کلیدی کام ہیں۔ اس ضمن میں ہم نے آگاہی کے بہت سارے ایسے پروگرامز شروع کیے ہیں جو VAW اور GBV کے حقیقت پر مبنی مختلف پہلوؤں کو عوامی سطح پر ان میں شعور اُجاگر کرنے کیلئے کیے جاتے ہیں۔

ہم عورتوں کی ان کی کمیونٹیز میں موجودہ حقیقتوں تبدیل کرنے کیلئے کام کرتے ہیں اور ایسے مناسب قوانین کیلئے ایڈووکیسی کرتے ہیں جوکہ عورتوں کو متشدد صورت حال میں سے نکالنے میں مدد کر سکیں۔ ہمارے شروع کردہ پروگراموں میں ہر طرح کے طبقوں سے بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوتے ہیں۔
Violence is Not Our Culture
16 Days of Activism:
Safe Age of Marriage

زمین کے حق کا مطالبہ
عورتوں کے حقوق کے حوالے سے کام کرتے ہوئے سب سے زیادہ تکلیف دہ مسئلہ عورتوں کا زمین کی ملکیت کے حق کے حوالے سے پیش آتا ہے۔ پاکستان میں بہت کم عورتیں خاص طور پر دیہاتوں میں زمین کے مالک کے طور پر ملتی ہیں۔ اگر کہیں کسی کو وراثت میں زمین ملتی بھی ہے تو اپنے بھائیوں سے آدھا حصہ ہوتی ہے۔دیہاتوں میں عورتوں کی زمین کی ملکیت اور اس پر اختیار کی کافی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور یہ حوصلہ شکنی سماجی سطح پر ہوتی ہے۔ اور اکثر اس دباؤ کے تحت پاکستان کے کئی علاقوں میں عورتوں کی قرآن سے شادیاں رواج بھی ہے یا انھیں بے بنیاد غیرت کے مسئلے پر قتل کر دیا جاتا ہے۔ عورتوں کی زبردستی خاندان کے اندر شادیاں کرا دی جاتی ہیں تاکہ جائیداد پر مردوں کا کنٹرول رہے۔
شرکت گاہ عورتوں کی وراثت اور زمین کی ملکیت کے حوالے سے کافی ریسرچ کر چکی ہے جو کہ آپ اس لنکپر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ مقالہ Women Inhertance and Property Rights (WIPR) میں پاکستان کی کنٹری چیپٹر کے طور پر قبول کیا جا چکا ہے۔ ہم نے 2008 کی سندھ حکومت کی بے زمین کسان خواتین میں زمین تقسیم کرنے کے منصوبے کا بھی تجزیہ کیا ہے۔ یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا واحد منصوبہ تھا۔

ماحولیاتی تبدیلی اور روزگار
ماحولیاتی تبدیلیوں کے عورتوں پر اثرات کو سمجھنے کیلئے شرکت گاہ نے ڈسٹرکٹ شہید بینظیرآباد (نواب شاہ) سندھ کے چار دیہاتوں میں ایک فیلڈ ریسرچ کی۔ ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ عورتیں ماحولیاتی تبدیلیوں کو کیسے دیکھتی ہیں اور ان پر ان کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اور پھر ہم پالیسی میکر کے ساتھ ان معلومات کا تبادلہ کرنا چاہتے تھے۔ ظاہر ہے اس ریسرچ کے نتائج غیرمتوقع نہیں تھے۔
جیساکہ ہم سب جانتے ہیں کہ عورتیں، گھر کی آمدنی میں حصہ ڈالنے سے لے کر بچوں کی پرورش، گھر کی صفائی ستھرائی، کھانا پکانا، کھیتوں میں کام، گھر سے دور علاقوں سے پینے کا پانی لے کر آنے سے لے کر جلانے کی لکڑیاں اکٹھی کرنے تک کی ذمہ داریاں پوری کرتی ہیں۔ چنانچہ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سب سے زیادہ تکلیف انھیں کو پہنچتی ہے۔ کیونکہ قدرتی وسائل اور عورتوں کے روزگار میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ لہٰذا ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے عورتوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ جاتا ہے۔
جب سے ایندھن کیلئے مفت لکڑیاں مہیا ہونا بند ہوئی ہیں عورتوں کو ایندھن کیلئے گوبر کے اُپلے اور کپاس کی جھاڑیاں استعمال کرنا پڑتی ہیں جس سے ان میں آنکھوں کی کئی بیماریاں پیدا ہو گئی ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گرمی میں شدت اور زرعی ادویات کا کھیتوں میں ضرورت سے زیادہ استعمال کی وجہ سے بہت سی فصلوں کے سینز میں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، جس کی وجہ سے کسان کافی پریشان اور مایوسی کا شکار ہیں اور اس پریشانی اور مایوسی کا خمیازہ بھی زیادہ تر عورتوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔

جنسی اور تولیدی صحت کا حق
Women’s Health and Advocacy Patnership (WHRAP) عورتوں کی جنسی اور تولیدی صحت کے حق کے حوالے سے ساؤتھ ایشیاء میں ایڈووکیسی کرتا ہے۔ اس کیلئے وہ بنگلہ دیش، انڈیا، نیپال اور پاکستان میں سول سوسائٹی کی تنظیموں خاص طور پر ان تنظیموں کو جنھیں عورتوں چلا رہی ہیں، کو اکٹھا کرتا ہے تاکہ اس طرح کے ثبوت اکٹھے کیے جا سکیں کہ ساؤتھ ایشیاء میں عورتوں کی جنسی اور تولیدی صحت کے حوالے سے کس طرح کی پالیسیاں اور قوانین موجود ہیں اور اس ضمن میں کس طرح کی ایڈووکیسی کرنے کی ضرورت ہے۔
2006 ء سے لے کر 2010ء تک WHRAP نے مختلف ملکوں کے سٹیک ہولڈرز تک رسائی حاصل کی:
گراس روٹ کی سطح پر عورتوں میں حقوق اور جوابدہی کی اہمیت کو اُجاگر کرنے میں مدد فراہم کی
صحت کی سہولیات فراہم کرنے والوں میں احساسِ ذمہ داری کو بڑھایااور ان کے سسٹم کو مضبوط کیا
جنسی، تولیدی اور زچہ بچہ کی صحت کے مسائل کو نمایاں کرنے میں کامیاب ہوئے
اور میڈیا کو تیار کیا کہ وہ اس کی مانیٹرنگ میں اپنا بہتر کردار ادا کر سکے۔

WHRAP

نے 160,000 عورتوں کی ٹریننگز کے ذریعے صلاحیتوں کو اُبھارا ہے تاکہ وہ خوداعتمادی کے ساتھ صحت کے نظام کی مانیٹرنگ اور اپنے حقوق کا مطالبہ کر سکیں۔
اس پراجیکٹ کا حصہ بن کر شرکت گاہ نے تینوں صوبوں پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں نوجوان لڑکیوں کے 40 گروپ بنائے ہیں جو خاص طور پر عورتوں کی تولیدی صحت کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ اس ضمن میں 40 تعارفی سیشنز بھی کیے گئے ہیں جس میں 956 عورتوں نے حصہ لیا۔

Capacity Building
شرکت گاہ اپنے کام، ٹریننگز اور Capacity Building کے سیشنز کے ذریعے لوگوں کو خودمختار بنانے اور معلومات کے تبادلے کے تسلسل پر یقین رکھتی ہے۔ ہماری فیلڈ ٹریننگز جنسی اور تولیدی صحت اور حقوق اور جمہوری اقدار کے فروغ کیلئے عورتوں کی خودمختاری اور قیادت (WELDD) جیسے پراجیکٹس کے تحت سینکڑوں عورتوں کو ماسٹر ٹریننر کے طور پر تیار کر چکی ہیں۔ ان عورتوں ان کی کمیونٹیز میں چیمپیینز اور لیڈرز کہا جاتا ہے۔ ہم اپنے کام موضوعات کے حوالے سے سول سوسائٹی آرگنائزیشن اور متعلقہ گروپوں کے ساتھ مختلف ایکٹیوٹیز اور  کے ذریعے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔

:ہماری بیشتر ٹریننگز مندرجہ موضوعات پر ہوتی ہیں
جنسی اور تولیدی صحت اور حقوق
پرسنل سٹیٹس لاز
برتھ سرٹیفیکیٹس، ڈیتھ سرٹیفیکٹس، نکاح نامہ اور شناختی کارڈ جیسی دستاویزات کی اہمیت اور ضرورت
انسانی حقوق، سماجی ذمہ داریاں اور فرائض
صنف
تنظیمی انتظام و انصرام ؛ اور
موسمیاتی تبدیلیاں اور ماحولیات

ڈسٹرکٹ ایڈووکیسی گروپس (DAGs)
شرکت گاہ کمیونٹی بیسڈ آرگنائزیشنز (CBOs) کو اپنی ٹریننگز کے ذریعے مضبوط اور بااختیار بناتی ہے تاکہ وہ مقامی انتظامی ڈھانچے میں بہتری، ریاستی نمائندوں میں لوگوں کی ضرورتوں کے حوالے سے احساسِ ذمہ داری، اور ان کی جوابدہی کر سکیں اور وہ لوگوں کو مؤثر اور مناسب سماجی سروسز فراہم کر سکیں۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے شرکت گاہ کے پاکستان بھر کے 13 اضلاع میں ڈسٹرکٹ ایڈووکیسی گروپس کام کر رہے ہیں جن میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے مثلاً میڈیا، وکلاء،نوجوان(Youth) ، حکومتی نمائندے اور اقلیتوں کے نمائندے شامل ہیں جو مل کر گاؤں، یونین کونسل، ڈسٹرکٹ اور

صوبائی سے قومی سطح تک عورتوں اور ڈویلپمنٹ کے موضوعات پر مباحثے اور تبادلہ خیال کرتے ہیں۔
مقامی سطح پر DAG کی موجودگی میں شرکت گاہ کے سٹاف کو سینکڑوں عورتوں، مردوں اور بچوں کو مندرجہ ذیل موضوعات پر ٹریننگز کروانے میں مدد فراہم کی ہے جن میں حقوق، گروننس، ماحولیات، روزگار کے ذرائع شامل ہیں۔ علاوہ ازیں عورتوں کی صحت، قانونی حقوق، ان کے روزگار کے ذرائع اور انہیں ضروری قومی دستاویزات کی اہمیت جن میں قومی شناختی کارڈ، پیدائش اور اموات، شادی، طلاق کی رجسٹریشن اور زمین کی ملکیت کے حقوق کے حوالے سے آگاہی دی جاتی ہے اور ان کے ساتھ عورتوں پر تشدد کے سماجی جواز اور کم عمری کی شادیوں جیسے موضوعات پر ٹریننگز کروائی جاتی ہیں۔
:اس وقت 13 ڈسٹرکٹ ایڈووکیسی گروپس پاکستان کے مختلف شہروں میں کام کر رہے ہیں

پنجاب
مظفرگڑھ، وہاڑی، ننکانہ صاحب، ملتان، قصور
سندھ
شہدادکوٹ، حیدرآباد، سکھر
خیبرپختونخواہ
سوت، چارسدہ، مردان، پشاور
بلوچستان
جعفرآباد