شرکت گاہ
صنفی مساوات کے حامل سماج کے لیے عورتوں کو بااختیار بنانا
ایک فعال، منصفانہ اور ترقی پسند پاکستان کے لیے جدوجہد جس میں خواتین مکمل طور پر بااختیار ہوں۔
تعارف
شرکت گاہ عورتوں کے چھوٹے سے گروپ کے ساتھ 1975ء میں معرض وجود میں آئی اور اپنے ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے آج پاکستان میں خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیموں میں صفہ اول کی تنظیم کے طور پر جانی جاتی ہے جوکہ لاہور، کراچی اور پشاور میں موجود اپنے دفاتر اور چھ مقامی فیلڈ سٹیشنز کے ذریعے پاکستان کے چاروں صوبوں میں عورتوں کے انسانی حقوق کے لئے کام کر رہی ہے۔
شرکت گاہ عورتوں کو ’’حقوق‘‘ کی حقدار کے طور پر مضبوط کرتی ہے اور ان حقوق پر عملدرآمد کروانے کیلئے ان کی صلاحیتوں کو اُبھارتی ہے اور انہیں اس قابل بناتی ہے کہ وہ فیصلہ سازی کا حصہ بن سکیں اور معاشرے کے موجودہ ڈھانچے کی تشکیلِ نو میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
:حکمت عملی کے حوالے سے تنظیم کی اپروچ
خواتین کو بطور حقدار کے طور پر مستحکم کیا جائے۔ *
سماجی سطح پر فعال عوامل کو عورتوں کے حوالے سے زیادہ حساس اور معاون بنانے کے لیے اَزسرِ نو راہیں متعین کی جائیں۔ *
اوراس حوالے سے مناسب پالیسی فریم ورک تشکیل دیا جائے۔ *